بربادی کا گواہ مانگتے ہیں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadمجھ سے وہ میری بربادی کا گواہ مانگتے ہیں
چالاک ہیں دل کے ٹوٹنے کی صدا مانگتے ہیں
اتنی کہاں قسمت اپنی کے وہ لگاتے مرہم
وہ تو ٹوٹے ہوئے دل پر زخم نیا مانگتے ہیں
وہ تو وہ ہیں لگے جو آگ کسی کے آشیانے کو
تو شجر سارے کے جلنے کی دُعا مانگتے ہیں
امید بھلائی کی کرتا کوئی بھلا ان سے کیسے
اہلِ دل کے لیے جو ہر وقت سزا مانگتے ہیں
کیا عجب بات ہے ساجد جس نے بےچین کیا سب کو
اپنے لیے وہ زمانے بھر کی وفا مانگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






