برتر تم ہی کو مانا ہے
Poet: S. Hasnain Raza Saair By: S. Hasnain Raza, Karachiہر ایک حال میں برتر تمہیں کو مانا ہے
تمام خوشیوں کا محور تم ہی کو مانا ہے
تمہاری مسکراہٹ ہے ہماری جان یہ جانو
کہ ہم نے شادماں زیور تم ہی کو مانا ہے
تم ہی وہ پھول ہو جس سے مہکتا ہے یہ دل
کہ ہم نے خوشبو کا عنصر تم ہی کو مانا ہے
تم ہی سے راتیں ہیں روشن ہمارے جیون کی
کہ ہم نے روشنِ پیکر تم ہی کو مانا ہے
میرے الفاظ میں جو پیار ہے نظر آتا
اسی انداز کا تیور تم ہی کو مانا ہے
کرے قربان اپنی زیست کو سائر تم پہ
کہ اپنی جان سے بڑھ کر تم ہی کو مانا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






