برستی ہیں آنکھیں
Poet: UA By: UA, Lahoreبرستی ہیں آنکھیں
ترستی ہیں آنکھیں
دہکتی ہیں آنکھیں
سلگتی ہیں آنکھیں
مسلسل برستی ترستی ہیں آنکھیں
مسلسل دہکتی سلگتی ہیں آنکھیں
خطا کیا ہے ان کی
دعا کیا ہے ان کی
جزا کیا ہے ان کی
سزا کیا ہے ان کی
کِیا بھی نہیں کچھ
ہوا بھی نہیں کچھ
طلب بھی نہیں کچھ
مِلا بھی نہیں کچھ
مگر کیا وجہ ہے
نہیں کچھ پتا ہے
برستی ہیں آنکھیں
ترستی ہیں آنکھیں
دہکتی ہیں آنکھیں
سلگتی ہیں آنکھیں
مسلسل برستی ترستی ہیں آنکھیں
مسلسل دہکتی سلگتی ہیں آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






