بری بات ھے۔۔۔
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: اسد جھنڈیر۔۔۔, MPK دل توڑ کر ہنستے ہو بری بات ھے
پیار کو کھیل سمجھتے ہو بری بات ھے
کیوں غیر کے کہے میں آئے گئے صاھب؟
اپنوں کو دشمن سمجھتے ہو بری بات ھے
مانا کہ ہم لائق بھروسہ نہیں
مگر عدو پر تکیہ کرتے ہو بری بات ھے
آخر ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ھے؟
کیوں لڑتے جھگڑتے ہو بری بات ھے
پہلے سے افسردہ ہیں پیار کا غم لیکر
تم کیوں نہیں سمجھتے ہو بری بات ھے
یہ پیار تو ملتا ھے قسمت والوں کو
تم پیار سے نفرت کرتے ہو بری بات ھے
دیکھو وقت نذع ایمان کا بھروسہ نہیں
کیوں ریاعی سجدے کرتے ہو بری بات ھے
کیوں اسد کے پیار کا اڑاتے ہو تم مذاق؟
اسد کو نکما سمجھتے ہو بری بات ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






