برے بن گئے زمانے سے
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, Kamaliaبرے بن گئے زمانے سے
جب نکلے تیرے میخانے سے
کہا،عشق نہ کرنا عشاق نے
کون سمجھا ہے سمجھانے سے
یہ تو تجھ پہ الزام ہے ساقی
کون بہکا ہے بیکانے سے
شمع پہ کیوں مرتا ہے ؟
آج پوچھیں گے پروانے سے
ہاتھ اٹھا کر لگے مانگنے دعا
ہوئے فارغ جب دفنانے سے
پلا جام پے جام ساقی
پیاس نہ بجھے گی اک پیمانے سے
ہاتھ ملا کر ہاتھ کھینچ لیا
ایسے ملا جیسے کوئی بیگانے سے
نہ کر فکر عدو کا تو نواز
خاک تو اڑتی ہے اڑانے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






