بزمِ اشعار زمانے میں سجانے کے لئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابزمِ اشعار زمانے میں سجانے کے لئے
میں تو زندہ ہوں تراساتھ نبھانے کے لئے
کتنی مشکل سے بہایا ہے یہاں خونِ جگر
اپنی آنکھوں میں سمندر کو جلانے کے لئے
اک تری یاد کا رہتا ہے گماں رات تلک
اک ترا عکس مرے آئینہ خانے کے لئے
تو نے یادوں کی حویلی میں چھپا کر رکھ دی
مری سانسوں کی یہ دولت ہے لٹانے کے لئے
ہم کو تقدیر سے شکوہ ہے ، شکایت نہ گلہ
ہم توزندہ ہیں تجھے اپنا بنانے کے لئے
عشق کی راہ میں جلنا ہی ضروری سمجھا
سب کو اٹھتے ہوئے طوفاں سے بچانے کے لئے
کتنا ارزاں ہے یہاں خونِ شہیدانِ وفا
جیسے مہندی ہے یہ ہاتھوں پہ رچانے کے لئے
جس کے کہنے پہ میں سو جاؤں ہمیشہ وشمہ
کاش لوٹے وہ مجھے پھر سے جگانے کے لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






