بس اک تیرا ساتھ
Poet: By: Hukhan, karachiآؤ اب چلتے ہیں اس راہ
جیسے ہو کوئی ہمراہ
پھر تم نہ کہیں کھو جانا
بس دل میں یوں بس جانا
جیسے کوئی ہمنوا
نہ ہو دنیا کی کوئی پروا
نہ اب خوف اب ہوگا کیا
بس تیراخیال تیرا ہی جمال
نہ کوئی نغمہ نہ کوئی گیت
نہ کوئی ساتھی نہ کوئی میت
اک تم اور تمہارا خیال
سمجھو جیتے ہم یہ بازی
ہو کوئی دور یا کوئی پاس
بس اک تیرا ساتھ
اب یہ ہی اک خواب
نہ کوئی اب پروا
کوئی ہے پاس
بس اک تیرا ساتھ
بس اک تیرا ساتھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






