بس ایک شخص کے دل میں سدا رہا ہوں میں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiبس ایک شخص کے دل میں سدا رہا ہوں میں
یونہی زمانے میں سب سے جدا رہا ہوں میں
کبھی خوشی کی بھنک تک نہیں لگی مجھ کو
کہ درد و غم سے ہمیشہ لدا رہا ہوں میں
تُو میری چاکِ قبا پر یوں انگلیاں نہ اٹھا
امیرِ شہر ترا کب گدا رہا ہوں میں
کہ اس سے بڑھ کے مرا نام اور کیا ہو گا
ہمیشہ ٹوٹے دلوں کی صدا رہا ہوں میں
بس ایک شخص کو پوجا ہے عمر بھر میں نے
کہا یہ کس نے جہاں پر فدا رہا ہوں
نہیں کچھ اس میں فریب و منافقت کے سوا
ٹٹول حسن کی ہر اک ادا رہا ہوں میں
نہ اپنے پیار کی ناؤ بچا سکا باقرؔ
ہاں بدنصیب مگر ناخدا رہا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






