بس کچھ دیر اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمحبت جیت جائے گی
زمانہ ہار جائے گا
فراق کی زنجیریں بھی
بے بسی کی بیڑیاں بھی
ٹوٹنے والی ہیں اب
محبت کا پنچی اب
فرارِ صیاد ہو گا
میں جانتا ہوں سچ
عشق آزاد ہو گا
تُم جانِ جاناں جی
حوصلوں سے جڑی رہنا
صبر کو پکڑے رہنا
خدا ترس کھائے گا
اِک دوجے سے ملائے گا
وصال کا دن آئے گا
تُم میری ہو جاؤ گی
نہالؔ ترا ہو جائے گا
کرو انتظار جان جی
بس کچھ دیر اور
بس کچھ دیر اور
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






