بعدِ ہجرت
Poet: Syed Ali Abbas Kazmi By: Syed Ali Abbas Kazmi , Sahiwalتیری چاہتوں کے سراب میں
وہی یادیں میری راہ گزر
تیری مستیاں اور تلخیاں
وہی باتیں میری راہ گزر
تیری شوخیاں اور قہقہے
وہی جرّاتیں میری راہ گزر
تیرا بے وجہ سا وہ روٹھنا
وہی مِنّتیں میری راہ گزر
تیرا بار بار مجھے چھیڑنا
وہی شرارتیں میری راہ گزر
تیری عشقیاں اور مُشقیاں
وہی پارتیں میری راہ گزر
تیری عِفتیں اور رِفعتیں
وہی عادتیں میری راہ گزر
تیری بے رخی کے بحر و بر
وہی پربتیں میری راہ گزر
تیری قُربتوں کا ہوں منتظر
وہی خصلتیں میری راہ گزر
تیری دوریوں کے نشیب میں
وہی چاہتیں میری راہ گزر
تیری ڈھونڈ میں یوں در بدر
وہی ہجرتیں میری راہ گزر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






