بعد مُدت کے وہ آیا اُسے مِل جانے دو
Poet: ندیم مراد By: ندیم مراد , امٹاٹا ساؤتھ افریکابعد مُدت کے وہ آیا اُسے مِل جانے دو
آنسوؤ! تھوڑا سا ٹھہرو اُسے بہلانے دو
دل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ اُسے آنے دو
اور جو گھبراتا ہے دل تو اُسے گھبرانے دو
اتنے دُکھ ہیں کہ ہنسی ہو گئی جنسِ نایاب
مہربانی کرو ہونٹوں پہ ہنسی آنے دو
اپنے گُلدان میں پُھولوں کو سجاؤ لیکن
کچی کلیوں کو نہ توڑو انہیں کِھل جانے دو
دُکھ تو دُکھ ہیں وہ سدا ساتھ رہیں گے لیکن
ساتھ ہو تیرا تو طوفانوں کو ٹکرانے دو
کانپتے ہونٹوں سے اظہارِ محبت کردو
اپنے آنسو نہ پیو آنکھ سے بہہ جانے دو
منزلِ شوق میں دیکھا نہیں جاتا پیچھے
رہ گیا پیچھے اگر کوئی تو رہ جانے دو
مُسکراتے رہو دُکھ اپنے چھپاؤ سب سے
اپنا مل جائے تو اشک آنکھوں کو ٹپکانے دو
تم کرو کام ندیم اپنے زمانے کیلئے
اور زمانہ جو خفا ہو تو قہر ڈھانے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






