بغاوت نہ سمجھئے گا
Poet: بلبل سفیر)بختاور شہزادی) By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATصرف تجھے پانے آئے ہیں
تجھ کو تیرے ہی قلعے میں
فقط فتح کرنے آئے ہیں
تجھ پہ سب اثاثے وار کے
بس خود کو وارنے آئے ہیں
ہمیں تیری سلطنت کی کیا خبر
تجھے اپنی دینے آئے ہیں
گر ہار گئے تو فقط
سزائے موت دیجئے گا ہمیں
آخری خواہش کہنی ہے
رہائی نہ دیجئے گا ہمیں
دغا تو دیجئے گا مگر
اعتبار جلادوں کا نہ کیجئے گا
اپنے ہاتھوں سے قتل کرکے
قصہ درد بنا دیجئے گا ہمیں
آہ تک نہ بھریں گے
بڑی خوشی سے ماریے گا ہمیں
فقط آنکھوں میں دیکھئے گا
شاید پڑھ پائیں گے انہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






