بلاتے کیوں ہو
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiتم کو ملنا ہی نہیں روز بلاتے کیوں ہو
اپنا دیوانہ بنا کر یوں رلاتے کیوں ہو
تم کو معلوم ہے اب ہوگا ملن اپنا نہیں
میری آنکھوں میں پھر امید جگاتے کیوں ہو
اس سے پہلے جو کیا تم نے وہی کافی ہے بس
اب تماشا نیا دنیا کو دکھاتے کیوں ہو
جس کی تعبیر نہیں کوئی بتاتا ہے یاں
خواب ایسا کوئی آنکھوں میں سجاتے کیوں ہو
تم کو ملنا نہیں ہم سے تو کھل کر بولو
ہم کو ہر بار نیا روگ لگاتے کیوں ہو
تیری خاطر یہاں کیا کچھ نہ بھلایا ہم نے
ہم پہ احسان کوئی اپنا جتاتے کیوں ہو
یہ مکافاتِ عمل ہے اسے ہونا ہی تھا
خود کو اپنی ہی نظروں سے گراتے کیوں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






