بندہ عاجز
Poet: Dr.Shiblee Azam Ajnabee By: Dr. Syed Shible Azam Ajnabee, Karachiاس عہد گراں مایہ میں الفاظ کی قیمت
جاں بخشی و املاک و جواہر نہیں ہوتے
گر ذکر ہو مقصود تو ارباب جہاں دار
جز ‘‘نام شما چیست ،، سے آگے نہیں بڑھتے
کاغذ کے وہ اوراق جہاں آپ چھپے تھے
اب ان میں بکا کرتے ہیں پان کے بیڑے
صحرا میں کہیں نخل امید ہے کہ نہیں ہے
یہ جاکے کوئی حاج ابوالبرکات سے پوچھے
دل سوزی و جاں سوختی و درد جگر کو
اک کوزہ سر بند میں دریا کو اتارے
کیا جانئے کس رتبہ عالی پہ ہے فائز
ہر دور کو اعزاز ملا انکے فکر رسا سے
اس بندہ عاجز کو کہاں کوئی بھی سمجھا
جو سارے زمانے میں نقوش اپنے ابھارے
یہ نظم بھوپال کے مشہور شاعر ڈاکٹر سید شبلی اعظم اجنبی
نے حاجی ابوالبرکات ، شاعر ادیب محقق و مصنف کی گراں
قدر ادبی خدمات پر ٢٠ جون ٢٠١٠ میں کہا تھا جب ان کی
مشہور کتاب ،، اذن انقلاب ،، شائع ہوئی تھی-اس کتاب کے
٤٨٠ معلوماتی صفحات ہیں جو کہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت
رکھتی ہے۔
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






