بن تیرے جان من مرا سب کچھ فضول ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملاشیابن تیرے جان من مرا سب کچھ فضول ہو
چاہت ہی میری زندگی کا اب حصول ہو
اب ساری عمر تیری امانت ہے زندگی
جب کہہ دیا قبول مجھے تو قبول ہو
میں معتبر ہوں آپ کی بانہوں میں آگئی
ہجر و فراق اب مرے قدموں کی دھول ہو
ہر سمت ہے بہارمری رہگزر میں آج
خوشبو کا زندگی میں مری اب نزول ہو
موسم بہار عشق مرے دل میں کیا بسا
...یہ کائنات پیار کی خوشبوکے پھول ہو
آنکھوں میں تیرنے لگے چاہت کے جب کنول
حیرت زدہ سماج کے جو بھی اصول ہو
اترے ہیں آسمان سے تارے زمین پر
وشمہ مگر یہ چاند ہی میرا حصول ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






