بن جاوں گر کاتب تقدیر تو پہلا یہ کام کروں
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود, نوٹنگھم یو کےعنائیہ بیٹی بن جاوں گر کاتب تقدیر تو پہلا یہ کام کروں
عنائیہ بیٹی میں سارے جہاں کی خوشیاں تیرے نام کروں
عنائیہ بیٹی آنسو دُکھ غم کیا ہوتے ہیں تو سب بُھول جاۓ
عنائیہ بیٹی بس میں جو ہوں چاند ستارے تیرے نام کروں
عنائیہ بیٹی تیرے ناز بھی اُٹھاوں تیرے نخرے بھی اُٹھاوں
عنائیہ بیٹی تمھاری خدمت میں پریوں کو تیرے نام کروں
عنائیہ بیٹی اگر بن نہ سکا میں کاتب تقدیر تو پھر کیا ہوا
دادا ہوں تمھارا بیٹی میں اپنی بے نام محبت تیرے نام کروں
اپنی پوتی عنائیہ مسعود کے نام
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






