بچنے کی کوئی جا ہے نہ سہنے کی کچھ سکت
Poet: Syed Iftikhar Ahmed Rashk By: Syed Iftikhar Ahmed Rashk, Karachiبچنے کی کوئی جا ہے نہ سہنے کی کچھ سکت
جو بھی کسی کے ساتھ ہو قسمت کی ہے لکھت
جا تیری دوستی کو بھی ٹھکرا دیا تُرت
تجھ میں عدو و دوست کا پاتا ہوں میں بھرت
اترا ہے دل سے یوں کوئی اترے پرت پرت
ہے مُہرِ درد صفحئہِ دل پر ہوئی ثٙبت
باتیں کسی سے سن کے ہوئی ناز میں بڑھت
نہ فہم کوئی تجھ میں نہ ہے چال کی چلت
ہو قبر کا عذاب کہ ہنگامِ حشر ہو
کب مال ہاں مگر ترے اعمال ہیں بچت
او نا سمجھ نیت کا تجھے ہوش کچھ نہیں
بخشش کو تو خلوص سے کافی ہے اِک رکعت
سچائی گر نہیں ہو تو تاثیر بھی نہیں
وہ گفتگو ہے رائیگاں جو کہ ہے من گھڑت
اعمالِ نیک گفتگو سچائی سے بھری
تفسیر اس کے لفظ ہیں قرآن کی لغت
قرآن کتنے لوگ ہی پڑھتے ہیں روز رشکؔ
افضل ہے بے عمل سے جو عامل کی ہے پڑھت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






