بچھڑا محبوب
Poet: Ishraq jamal Ashar Chishti By: Isharaq Jamal Ashar Chishti, karachiکوئی تو لادے خبر مجھی کو اس ستمگر کی
وہ جس کی یاد مجھے آج بھی ستاتی ہے
وہ جس کا چہرہ رگ و پے میں بس گیا ہے میرے
شبیہ جس کی میرا خونِ دل جلاتی ہے
نظر جمی ہے کہ ایسی جسے ہٹا نہ سکوں
جسے بھلا نہ بھی چاہوں مگر بھلا نہ سکوں
وہ اسکا شوق تبسم جو زندگی تھا میرے
وہ چاہتوں بھرا لہجہ بکھیرتا تھا خوشی
وہ کیا گیا میرے دنیا اجڑ گئی جیسے
میرے حیات سے خوشیاں بچھڑ گئی جیسے
مجھے قبول وہ محلوں کی جگمگا ہٹ ہے
میرے گھٹن زدہ تاریک گھر میں کیوں چمکے
وہ ابرِ حسن برستا ہے زر کے جنگل پر
میں مفلسی کا ہوں صحرا وہ مجھ پہ کیوں برسے
الٰہی یا تو میرا مجھ سے حافظہ لے لے
یا زندگی جو عطا کی ہے چھیں لے مجھ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







