بچھڑیں گے یاد شدت سے آیا کریں گے تم کو
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIبچھڑیں گے یاد شدت سے آیا کریں گے تم کو
ساون کا بن کے بادل رلایا کریں گے تم کو
دن بھر میری راہیں دیکھا کرو گے پیارے
شب بھر خواب بن کے ستایا کریں گے تم کو
آنکھوں میں کتنے موتی ٹپکیں گے یاد بن کر
پھولوں پہ بن کے شبنم سجایا کریں گے تم کو
بیٹھیں گے دور جا کر اور دیکھیں گے چوری چوری
ایسی اداؤں سے اکثر جلایا کریں گے تم کو
اب ہم نے بھی سیکھ لی ہے ادا روٹھنے کی
مناؤ گے پہلے ہم کو پھر منایا کریں گے تم کو
یادوں میں سہمے سہمے سانسوں میں ٹھنڈی آہیں
کلیوں کی اس ادا سے مہکایا کریں گے تم کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







