بچھڑیں گے یاد شدت سے آیا کریں گے تم کو
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiبچھڑیں گے یاد شدت سے آیا کریں گے تم کو
ساون کا بن کے بادل رلایا کریں گے تم کو
دن بھر میری راہیں دیکھا کرو گے پیارے
شب بھر خواب بن کے ستایا کریں گے تم کو
آنکھوں میں کتنے موتی ٹپکیں گے یاد بن کر
پھولوں پہ بن کے شبنم سجایا کریں گے تم کو
بیٹھیں گے دور جا کر اور دیکھیں گے چوری چوری
ایسی اداؤں سے اکثر جلایا کریں گے تم کو
اب ہم نے بھی سیکھ لی ہے ادا روٹھنے کی
مناؤ گے پہلے ہم کو پھر منایا کریں گے تم کو
یادوں میں سہمے سہمے سانسوں میں ٹھنڈی آہیں
کلیوں کی اس ادا سے مہکایا کریں گے تم کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







