بچھڑ کے مجھ سے تجھے بھی زوال ہو کچھ تو
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiبچھڑ کے مجھ سے تجھے بھی زوال ہو کچھ تو
مری طرح ترا جینا محال ہو کچھ تو
مری طرح تو نہ روۓ وہ درد سے لیکن
میں چاہتا ہوں اُسے بھی ملال ہو کچھ تو
کسی کےعشق میں مَیں نےبھی جاں گنوائی ہے
وفا کے شہر میں میری مثال ہو کچھ تو
یہ سچ ہے عشق نہیں ذات و شکل کا مہتاج
مگر دکھاوے کو حسن و جمال ہو کچھ تو
تمام عمر اگر ہجر میں گزارنی ہے
ضروری ہے کہ مری جاں وصال ہو کچھ تو
فقیر آۓ ہیں مدت کے بعد میخانے
کچھ اور ہو نہ ہو لیکن دھمال ہو کچھ تو
میں چاہتا ہوں غریبی میں نام پیدا کروں
زمانہ چاہے مرے پاس مال ہو کچھ تو
مرے خدا مرے قاتل کو حادثوں سے بچا
کہ میری مرگ میں اُس کا کمال ہو کچھ تو
عدُو نہتا ہو بــــــــــــــــاقرؔ تو وار کیا کرنا
کرو یوں وار کہ پاس اُس کے ڈھال ہو کچھ تو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






