کیوں نہ اُگلیں میری نظمیں میرے اشعار لہُو
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiکیوں نہ اُگلیں میری نظمیں میرے اشعار لہُو
روز ہوتے ہیں یہاں جو بھرے بازار لہُو
سوچتا ہوں کہ بھلا جُرم ہے کیا بچوں کا
جانے کیوں کرتے ہیں بچوں کا وہ ہر بار لہُو
اب گُلابوں کی بھی پہچان بھلا کون کرے
اب کے آتا ہے نظر سارا جو گُلزار لہُو
جانے کب امن کی اس ملک میں آۓ گی فضا
جس کی گلیاں بھی لہُو ہیں در و دیوار لہُو
پہلے اخبار میں ہوتی تھی لہُو کی سرخی
اب اُگلتا ہے یہاں پورا ہی اخبار لہُو
میں جو مر جاؤں تو اوروں کے یہ کام آۓ گا
اپنے بستر پہ گیا چھوڑ یُوں بیمار لہُو
جانے کیوں کانپ اٹھا پِھر سرِمقتل قاتِل
تڑپا کل نوکِ سِناں پر جو وفادار لہُو
گندے نالے میں بہا دینا لہُو میرا کہیں
کیونکہ جچتا نہیں مقتل میں گنہگار لہُو
کربلا نے روایت ہے سکھائی ہم کو
ظُلم کے سامنے جھکتا نہیں خودار لہُو
اس لیۓ ماتمِ شبّیر کا قائل ہوں میں
دے گا محشر میں گواہی یہ عزادار لہُو
کوئی تو لے گا مرے قتل کا بدلہ بــــــــــاقرؔ
ہضم کر پائیں گے کب تک میرا غدار لہُو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






