نہ مسجدوں نہ کلیساؤں مندروں میں ملے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

نہ مسجدوں نہ کلیساؤں مندروں میں ملے
فقیر لوگ ہمیشہ قلندروں میں ملے

وہ جن کی کھوج میں بھٹکے ہیں ساحلوں پر لوگ
گہر یا سیپ ہمیشہ سمندروں میں ملے

وہ کوہ طور یا مسجد کو جائیں گے کیونکر
کہ جن کو روز خدا آ کے پتھروں میں ملے

زمانہ جن کی اڑانوں پہ رشک کرتا تھا
پرندے آج وہ ٹوٹے ہوۓ پروں میں ملے

وہ جن کا مذہب و منشور بس بھلائ تھا
وہ سچے لوگ پڑے آج مقبروں میں ملے

جنہیں بھکاری سمجھتا رہا زمانہ کبھی
وہ آج تخت پہ بیٹھے سکندروں میں ملے

کہ جن کو بیچ کے قسمت سنوار لی جاۓ
خزینے بیش بہا ایسے کھنڈروں میں ملے

سکون جتنا خدا نے ہے رکھا خیموں میں
نہ آسمان کو چھوتے ہوۓ گھروں میں ملے

نشہ جو یار کی آنکھیں ہیں بخشتی باقرؔ
سبو نہ جام نہ مے کے وہ ساغروں میں ملے

Rate it:
Views: 410
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL