نہ مسجدوں نہ کلیساؤں مندروں میں ملے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiنہ مسجدوں نہ کلیساؤں مندروں میں ملے
فقیر لوگ ہمیشہ قلندروں میں ملے
وہ جن کی کھوج میں بھٹکے ہیں ساحلوں پر لوگ
گہر یا سیپ ہمیشہ سمندروں میں ملے
وہ کوہ طور یا مسجد کو جائیں گے کیونکر
کہ جن کو روز خدا آ کے پتھروں میں ملے
زمانہ جن کی اڑانوں پہ رشک کرتا تھا
پرندے آج وہ ٹوٹے ہوۓ پروں میں ملے
وہ جن کا مذہب و منشور بس بھلائ تھا
وہ سچے لوگ پڑے آج مقبروں میں ملے
جنہیں بھکاری سمجھتا رہا زمانہ کبھی
وہ آج تخت پہ بیٹھے سکندروں میں ملے
کہ جن کو بیچ کے قسمت سنوار لی جاۓ
خزینے بیش بہا ایسے کھنڈروں میں ملے
سکون جتنا خدا نے ہے رکھا خیموں میں
نہ آسمان کو چھوتے ہوۓ گھروں میں ملے
نشہ جو یار کی آنکھیں ہیں بخشتی باقرؔ
سبو نہ جام نہ مے کے وہ ساغروں میں ملے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






