بڑی اُمید تھی

Poet: By: Muhammad Haroon Baig, Lahore

میں اُس کے ہاتھوں میں تھا
ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح فراز

بڑی اُمید تھی بکھرنے نہیں دے گا وہ
بس گِرایا کچھ اس ادا سے اُس نے کہ
سمٹنے کی آس ہی نہ رہی

Rate it:
Views: 632
21 Aug, 2008
More Sad Poetry