بڑی جاں لیوا ہے یہ پہلو تہی اُسکی
Poet: Ibn.E.Raza By: Ibn.E.Raza, Islamabadبڑی جاں لیوا ہے یہ پہلو تہی اُسکی
اب سہی نہیں جاتی ہے بےرُخی اُسکی
وہ اُداس چہروں کو ہنسی دیتا تھا
بھولی نہیں یہ بات آج بھی اُسکی
آج اندھیروں میں چھپا بیٹھا ہے
ستاروں سے مزّین تھی زندگی اُسکی
بادِ نَو بہار کا جھونکا گزر گیا
بازگشت فضا میں رقصاں رہی اُسکی
وہ رونق ِ محفل مسرتوں کا پیکر
بہت قابل ِ دید ہے تابندگی اُسکی
گردشِ حالات میں ایسے بھی دن آئے
میری سنی اُسنے نہ میں نے سنی اُسکی
وہ لذتِ پرواز سے آشنا ایسا ہوا
نِگاہ نہ پھر مجھ پہ رُکی اُسکی
دو قدم بھی ساتھ میرے نا چل پایا
لےڈوبی پُھولوں سی ناز کی اُسکی
حسرت نہیں کوئی جو پوری نہ ہوئی
زندگی میں بس اِک ہے تو کمی اُسکی
چہرے پہ تبسم کا تاثر تو تھا مگر
کُچھ اور کہہ رہی تھی کپکپی اُسکی
دل ِ ناتواں نے ہر جتن کر دیکھا
پھربھی نہ پا سکے خوشی اُسکی
وہ جس حال میں رکھے گا جی لینگے
دل کو درکار محض ہے مرضی اُسکی
کھلی آنکھ میں بھی خواب ہیں اُسکے
وہ نہ آئے رضا چلو یاد ہی سہی اُسکی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






