بڑی مشکل سے کٹتے ہیں میری تنہائی کے لمحات
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanغموں کا پھر وہی موسم ،وہی آہوں کی ہے برسات
وہی اجڑے ہوئے شام و سحر ہیں ،پھر وہی صدمات
کسی کو کیسے بتلاؤں مرے دل کا ہے کیا عالم
بڑی مشکل سے کٹتے ہیں مری تنہائی کے لمحات
نظر آتے نہیں روشن سحر کے دور تک آثار
گماں تھا کٹ ہی جائے گی غموں کی یہ اندھیری رات
محاز زندگانی پر مرے پاؤں نہ تھرائے
اگرچہ ہر قدم پر مجھ کو قسمت سے ہوئی ہے مات
نگاہوں میں اداسی ہے لبوں پہ گہری خاموشی
مگر پھر بھی نہ سمجھا آج تک کوئی مرے جذبات
چلے جانے پہ اس کے رو رہا ہوں آج لاحاصل
وہ میرے پاس تھا پر کہہ نہ پایا اس سے دل کی بات
مری قسمت کہ تیرے پیار سے محروم ہوں اب تک
اگرچہ میں نے تیرے واسطے لکھے حسیں نغمات
اگر بچپن میں ہوں محرومیاں زاہد تو سنتے ہیں
ہمیشہ ان کے انسانوں پہ رہتے ہیں برےاثرات
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






