جی یہ چاہتا ہے میرا

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

جی یہ چاہتا ہے میرا
چھوڑکر دنیا کی نگری
کوئی نئی دنیا تلاش کروں
راز خود پر فاش کروں
جو کبھی نہ کہہ پائی
وجود کی گہرائی میں
ٹھہرے پانی کی طرح
نہ جانے کب سے ہیں
مگر جب سے ہیں
میں پریشان ہوں

جی یہ چاہتا ہے میرا
تسخیر ذات کی خاطر
تیاگ دوں ہر اک رشتہ
جو باظاہر ہے فرشتہ
حقائق کے انجام سے
جو کوئی دیکھ نہیں پاتا
مگر پریشان رہتا ہے
ہر کوئی جو مسافر ہے
اس خیالی دنیا کا
نہ جانے کیا ہو جائے گا
اگر کھل گئی میری چاہیتیں
میں بھی یہ سوچتی ہوں
کیا گزرے گی اُن پر
جو مجھے سونپ دیے گئے
مگر میرے اپنے ہیں وہ
میں اپنی ذات میں تنہا
اپنے وجود سے لڑ کر
نبھائے جا رہی ہوں جو
اقدار زندگی ہیں میری

جی یہ چاہتا ہے میرا
کہ سونپ دوں ہر رشتہ کو
وجود اس کا میں کامل
جو مجھ میں ہے شامل
کسی نوکیلے خنجر کی طرح
جی یہ چاہتا ہے میرا
کہہ دوں چیخ چیخ کر
میں بھی ہوں یہ جان لو
نہ تھونپو خود کو مجھ پر
نہ اپنی ذات کو مجھ پر
مسلط کر دو ایسے
کہ سانس بھی نہ لے پاوں
جیتے جی ہی مر جاوں

جی یہ چاہتا ہے میرا
زندگی کی تھکن کو اب
جاننے والے میرے سب
جان لیں تو اچھا ہے
جی یہ چاہتا ہے میرا
 

Rate it:
Views: 1017
30 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL