بھائی کی شادی پے دیکھا تھا اُسے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaبھائی کی شادی پے دیکھا تھا اُسے
پہلی بار مسکراتے ہوئے
ادائوں کی چادر اوڑھ کے
سُنتے ہوئے سُناتے ہوئے
چاند سے چہرے پے گِری ہوئی
ریشمی زلف ہٹاتے ہوئے
رُباب خوشی کے چھیڑے ہوئے
وفا کے گیت گاتے ہوئے
لڑکی تھی یا پَری تھی کوئی
چُپ ہو گیا میں بتاتے ہوئے
عاشقوں کی تباہی سوچی ہو گی
خدا نے اُسے بناتے ہوئے
دیکھا اُسے چاند نے بھی جب
چُھپ گیا پھر شرماتے ہوئے
حُسن کے یُوں تو ہزاروں موتی تھے
اُسے دیکھا سب کو جلاتے ہوئے
محبت کے راز جو چُھپانے تھے
بول گیا میں سب چُھپاتے ہوئے
کومل ہاتھوں کو سجایا تھا مہندی سے
چہرے پے لالی لگاتے ہوئے
نہال الوداع مجھکو کہہ کے وہ
بنا گئے اپنا مجھے جاتے ہوئے
بھائی کی شادی پے دیکھا تھا اُسے
پہلی بار مسکراتے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






