بھلا نہ سکا
Poet: Asad By: Asad, mpkوہ ھمیں بھلا نہ سکا کبھی سدا کے لیے
رھا میں قید میں اسکی بند ھمیشہ کے لیے
پیار میں حد سے گذر جانا ھی کافی نہیں
جنون عشق بھی درکار ھے کچھ انتہا کے لیے
دل کی حالت ھے خستہ کہیں قرار نہیں
کوئی تو ھاتھ اٹھائو ادھر دعا کے لیے
بیشتر اس سے کہ ہار جاؤں یہ زندگی
نبھاؤ ساتھ ھمارا تم کچھ خدا کے لیے
ھے کوئی حد بھی مقرر بے وفائی کی ؟؟؟
یا انتہا کو جا پہنچو گے تم انتہا کے لیے
عشق کا پیچہ ھے اسد آسان چھٹنے کا نہیں
حوصلہ بلند چاھیئے اور خم ھمیشہ کے لیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






