بھلا کب تک تری یادوں سے اپنے دِل کو بہلاؤں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKبھلا کب تک تری یادوں سے اپنے دِل کو بہلاؤں
کہاں تک میں تری سوچوں سے آ نگن دِل کا مہکاؤں
مری کمزور ماں بیٹی کے دُکھ اب سہہ نہیں سکتی
یہی اچھا ہے اپنے زخمِ دِل اس کو نہ دِکھلاؤ ں
تری خوشبو رچی ہے اِس طرح سے میری سانسوں میں
میں چاہوں بھی تو اپنے سے الگ اِس کو نہ کر پاؤ ں
ابھی کہنی ہیں مجھ کو آپ سے کچھ ان کہی باتیں
میں سب کہنا تو چاہوں آپ سے ، پر کہہ نہیں پاؤ ں
تمہارے بن مجھے اب ہر خوشی پھیکی سی لگتی ہے
کہاں تک راستہ دیکھوں کہاں تک خود کو سمجھاؤ ں
ہویٔ دوپہر رُخصت شام کے ڈھلنے لگے ساۓ
در و دیوار مجھ سے کہہ رہے ہیں لوٹ بھی آؤ ں
مرے اندر کا موسم کِس قدر ویران ہے عذرا
کہیں ایسا نہ ہو تنہا ئیوں میں گھٹ کے مر جاؤ ں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







