بھلے کچھ ہو مگر امید کا دامن نہ چھوڑیں گے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKبھلے کچھ ہو مگر امید کا دامن نہ چھوڑیں گے
بہار آۓ نہ آۓ ہم مگر گلشن نہ چھوڑیں گے
وہ جن سے ایک مدت تک رہیں اجداد شرمندہ
کچھ ایسی داستانیں ہم پسِ چلمن نہ چھوڑیں گے
بڑی مشکل سے پائی ہے جگہ ہم نے ترے دل میں
کسی بھی حال میں اب ہم یہ سنگھاسن نہ چھوڑیں گے
تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے ڈولی سے جنازے تک
خوشی ہو یا کہ غم ،اب ہم ترا آ نگن نہ چھوڑیں گے
نبھائیں گے سدا انسانیت کے سب تقاضوں کو
بنا امداد مشکل میں پھنسا دشمن نہ چھوڑیں گے
لڑیں گے ہم جہاں تک ہو سکا حالات سے عذرا
یہ ٹھانی ہے کبھی بھی صبر کا دامن نہ چھوڑیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







