بھولا نہیں تجھے میں، بس یہ بتا رہا ہوں
Poet: Mian Waqar ul Islam By: Mian Waqar ul Islam, Lahoreبھولا نہیں تجھے میں، بس یہ بتا رہا ہوں
میں دل جلا نہیں ہوں، میں دل جلا رہا ہوں
ہارا میں خود سے جب بھی، تو سر جھکا دیا ہے
میں آسرے پہ اپنے، بے آسرا رہا ہوں
آخر تڑپ اٹھی ہیں، پُر سوز میری شامیں
میں رت جگوں کو اپنے، کب سے جگا رہا ہوں
اندھے ہوئے ہیں رستے، سب میرے ہی عمل سے
توبہ کی بجھتی شمعیں، کب سے جلا رہا ہوں
برسا الہی پھر سے! وہ رحمتوں کے بادل
اشکوں کو اپنے یارب، کب سے بہا رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






