بھول نہ جائیں کہیں رانجھا کے افسانے مجھے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaبھول نہ جائیں کہیں رانجھا کے افسانے مجھے
علمِ چاہت پھر دہر میں دیجے پھیلانے مجھے
گلستانِ عاشقاں میں ہے خزاں آئی ہوئی
آخرش ان کے مسائل بھی ہیں سلجھانے مجھے
ہائے یہ حسنِ مقدر چاند اترا ناگہاں
آیا ہے اور دیکھئے تو ساتھ لے جانے مجھے
ہاں تسلسل دیکھنے کا توڑنا بالکل نہیں
پھر زلیخا کی طرح ہیں ہاتھ کٹوانے مجھے
آج روتے ہیں سنا ہے مجھ سے ملنے کے لئے
کل سرِ بازار تھے جو آئے ٹھکرانے مجھے
چاہتِ جاناں ملی ہے نہ رضائے کبریا
لے چلو اے ہم نشینو! آج مے خانے مجھے
دور ہو کر بھی شناسا ہے مری عادات سے
ہیں جو رہتے پاس میرے وہ نہیں جانے مجھے
جعفری تو نے غموں کو لکھ دیا کچھ اس طرح
اب تو شاعر مانتے ہیں اپنے بیگانے مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






