بھیگی رات میں تنہا ہوں میں جانِ جاں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadبھیگی رات میں تنہا ہوں میں جانِ جاں
خالی راہیں تکتا رہتا ہوں میں جانِ جاں
جہاں پہرو ں بیٹھ کر ہنستے گاتے تھے
اُسی جھیل کنارے بیٹھا ہوں میں جانِ جاں
چند لمحے کیا جیئے تیری حضوری میں
اب ہجر کی سولی لٹکا ہوں میں جانِ جاں
کوئی بھٹکا راہی آب کہے،سراب کو جیسے
تیری دید کو ایسے ترسا ہوں میں جانِ جاں
تو نے کیسے سوچا تجھ سے ناطہ توڑوں گا
بس میری تو اور تیرا ہوں میں جانِ جاں
نہ پوچھ کہ تیرے ہجر میں کیا کیا کرتا ہوں
بس تجھ کو سوچتا رہتا ہوں میں جانِ جاں
میرے دن کٹتے ہیں بن تیرے انگاروں پر
اور شب بھر تارے گنتا ہوں میں جانِ جاں
جسے کچا دھاگہ سمجھ کر تو نے توڑ دیا
وہی نازک نازک رشتہ ہوں میں جانِ جاں
نہ تو آیا نا خبر دی اپنی کس حال میں ہو
جا تجھ سے روٹھ گیا ہوں میں جانِ جاں
کب آؤ گے تم پیاس بجھانے آنکھوں کی
یاں پل پل آہیں بھرتا ہوں میں جان جاں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






