بھیگی رات میں تنہا ہوں میں جانِ جاں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadبھیگی رات میں تنہا ہوں میں جانِ جاں
خالی راہیں تکتا رہتا ہوں میں جانِ جاں
جہاں پہرو ں بیٹھ کر ہنستے گاتے تھے
اُسی جھیل کنارے بیٹھا ہوں میں جانِ جاں
چند لمحے کیا جیئے تیری حضوری میں
اب ہجر کی سولی لٹکا ہوں میں جانِ جاں
کوئی بھٹکا راہی آب کہے،سراب کو جیسے
تیری دید کو ایسے ترسا ہوں میں جانِ جاں
تو نے کیسے سوچا تجھ سے ناطہ توڑوں گا
بس میری تو اور تیرا ہوں میں جانِ جاں
نہ پوچھ کہ تیرے ہجر میں کیا کیا کرتا ہوں
بس تجھ کو سوچتا رہتا ہوں میں جانِ جاں
میرے دن کٹتے ہیں بن تیرے انگاروں پر
اور شب بھر تارے گنتا ہوں میں جانِ جاں
جسے کچا دھاگہ سمجھ کر تو نے توڑ دیا
وہی نازک نازک رشتہ ہوں میں جانِ جاں
نہ تو آیا نا خبر دی اپنی کس حال میں ہو
جا تجھ سے روٹھ گیا ہوں میں جانِ جاں
کب آؤ گے تم پیاس بجھانے آنکھوں کی
یاں پل پل آہیں بھرتا ہوں میں جان جاں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






