بھیگی رُت
Poet: Muhammad Abbas Saqib By: Muhammad Abbas Saqib, Karachiبھیگی رُت کی وہ ملاقات، ذرا یاد کرو
تم نے چُوما تھا میرا ہاتھ، ذرا یاد کرو
کس کے چہرے سے اماوس ہوئی تھی روشن
حُسنِ تاباں کی کرامات، ذرا یاد کرو
اَدھ کُھلی کھڑکی میں راستہ تکتی آنکھیں
بے قراری کے وہ لمحات، ذرا یاد کرو
کانپتے ہونٹوں نے دُعاﺅں میں لیا تھا میرا نام
جھیل سی آنکھوں میں برسات، ذرا یاد کرو
ہائے وہ تیرا ہر اِک وعدہ بھُلا کر کہنا
’بھُول جاﺅ وہ ہر اِک بات٬ ذرا یاد کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






