بہار
Poet: Sadeed Masood By: Sadeed Masood, Auckland newzealandپھول دیکھےتو ہم کو یاد آیا
وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
جس زمانے میں خواب زندہ تھے
جس زمانے میں جوش باقی تھا
پھول رکھتے تھے ہم کتابوں میں
تیری خوشبو تھی ان گلابوں میں
تیری یادوں میں دن گزر جاتا
تیری سوچوں میں رات ڈھل جاتی
تیرے جانے سے دم نکل جاتا
تیرے آنے سے جان آ جاتی
ہم کو کتنا تھا زعم بدلیں گے
اس مقدر کی الٹی ریکھا کو
دودھ کی نہر گر ضروری ہو
تیری خاطر نکال لائیں گے
تارے توڑیں گے ہم بھی عرشوں کے
چاند کو بھی اتار لائیں گے
وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
جس زمانے میں خواب زندہ تھے
جس زمانے کے دھندلے شیشےسے
اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
خاک اڑتی ہے روتی یادوں کی
آہیں باقی ہیں اجڑے چہروں کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






