بہت میرے خوابوں میں آ جا رہے ہو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبہت میرے خوابوں میں آ جا رہے ہو
غضب بات یہ کہ غضب ڈھا رہے ہو
ارے پہلے اطوار اپنے تو دیکھو
زمانے کی زلفوں کو سلجھا رہے ہو
اگر مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے
تو کس کے خیالوں سے شرما رہے ہو
یہ کیا میکدے کے مسافر سے کہنا
کہاں جا رہے ہو کدھر آ رہے ہو
جو اقرار ہے کر زمانے کے آگے
یہ کانوں میں کیا آپ فرما رہے ہو
جہاں خواب ٹوٹا تھا جوڑو وہیں سے
حقیقت کو کیوں بیچ میں لا رہے ہو
یہ شانہ ہے میرا یا دیوار گریہ
کہ ہر راز سینے کا بتلا رہے ہو
ابھی تو محبت کا پہلا قدم ہے
تو پہلے قدم پہ ہی گھبرا رہے ہو
یہ تم ہو یا مصرعہ ہے کوئی جگر کا
فضاؤں میں خوشبو سی بکھرا رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







