بیان کرنے سے بھی نہیں ہوگا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaبیان کرنے سے بھی نہیں ہوگا
تیرا نظریں
چرا کر دیکھنا
تیرا جلدی سے
سب کچھ کہہ جانا
تیرا روٹھ جانا
تیرا مان جانا
تیرا یوہی ڈانٹ جانا
بولتے بولتے رکنا اور
کچھ اور ہی کہہ جانا
ڈال کر آنکھوں میں
آنکھیں نظریں جھکا جانا
دیکھتے رہنا مجھے اور
مجھے سے ہی چھپا جانا
بولتے رہنا ہر پل مگر
میرے سامنے آتے
خاموش ہو جانا
میری باتیں دوستوں
سے کرتے جانا
میرے پوچھتے ہی
مجھے ٹال جانا
مجھے سوچنا اور
یوہی مسکرا جانا
بیان کرنے سے بھی نہیں ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






