بیگانگی
Poet: عرشیہ ہاشمی By: arshiya hashmi, islam abadآج کچھ بات عجب اس کے لب پہ آئی تھی
سانسیں رکیں سی تھی آنکھ بھر آئی تھی
دم رخصتی ہم نے بھی نہ کوئی سوال کیا
جو مڑ کے دیکھتے تو اپنی بڑی رسوائی تھی
شاید بھول گیا وہ وعدے وہ قسمیں ساری
اسکے لہجے میں عجب بیگانگی اتر آئی تھی
کل تک جان دینے کے وعدے کرتا تھا جو
آج جان لینے کی اس نے قسم کھائی تھی
یوں ریزہ ریزہ کر گیا میرے وجود کو عرشی
دامن کوہ سے جیسے کوئی بلبل ٹکرائی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







