بےحد ضروری سمجھ کے(٣)
Poet: SAVERA By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMپابند سلاسل وہ رہےاورہم پابہ زنجیر
سمجھوتہ آخرہو گیاحالات کی مجبوری سمجھ کے
برسوں سےوہ تو ہمیں سمجھاتےآئےتھےلیکن
ہم کو بھی سمجھ آگئی ان کی معذوری سمجھ کے
ہے سچ کےآنکھ اوجھل تو پہاڑ بھی اوجھل
ہم بھی ہوئے دوردلوں کی دوری سمجھ کے
ہجراں نصیب کوبھلا کیا ہے دید سےکام
وہ تو ہجر کا طوق پہنےہےمہجوری سمجھ کے
وہ خودکو سارے جہاں کا شاعراعظم سمجھتےرہے
ہم نےانکو چھوڑ دیا ان کی مغروری سمجھ کے
اب کیافکر اس کہانی کی جس کا کوئی نہ انجام ہے
ہم نےبھی پڑھنا چھوڑدیا اسےادھوری سمجھ کے
اب کہتےہیں اوہ جانےوالےذرا پلٹ کےدیکھنا
پلٹےجوہم تو پتھر سےنہ ہوجاہیں جی حضوری سمجھ کے
اک دن سال کااصغر کا بھی اچھا گزرجائے گا
یہی سوچ کر بھیجاہے کارڈ ضروری سمجھ کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






