بے بس شاکرہ
Poet: شاکرہ نندنی By: Shakira Khan, Lahoreتو جو کہہ دے تو خدا سے بھی لڑ جائیں ہم
تیری خوشی کے لیے مرنا پڑے، مر جائیں ہم
تیری باتیں ہیں شہد جیسی تو بتا دل کس طرح نہ لگائیں ہم
تیری چاہت میں کشش کچھ ایسی، بن کہے کھنچے آئیں ہم
تو جو کہہ دے مجھ سے اب بن کہے، اجنبی بن جائیں ہم
تجھ پانا ہے ایک گزارش اپنی، دل کو کس طرح سمجھائیں ہم
تجھ سے محروم تھی قسمت شاکرہ کی، روک بھی تجھ نہ پائیں ہم
تو جو مل جائے یوں ہی کبھی۔ سچ ہے خوشی سے مر جائیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







