بے شک
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, Gujranwala لاپرواہ ہو جانا ، میرے جذبوں کی
سچائی کے باوجود
بے شک بھنور میں اکیلا چھوڑ دینا
خود کشتی کے سوار رہنا
بے شک میرا ہو کے کسی اور کو چاہنا
بے شک گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں
خود بیٹھنا
مجھے جھلستی دھوپ میں تنہاچھوڑ دینا
بے شک طوفانوں کی تند تیز موجوں کے
مجھے روبرو کر کے خود ہٹ جانا
بے شک زمانے کی گردش ایام میں
پسنے دین
بے شک میرے احساسات کو پامال کر دینا
بے شک میری اطاعت کے باوجود تم
سرد مہر بن جان
بے شک محبتوں کی قیمت وصول کرنا
اور خود غرض ہو جان
بے شک میرے دل کو اپنی جفاؤں کے
صدمے سے پاش پاش کر دین
بے شک میری التجاؤں کو ٹھکرا دینا
رشتوں کی بھینٹ چڑھنے دین
بے شک اپنے قدموں کی خاک بنا کر
روند ڈالنا، بے نشان کر دین
بے شک اپنی بے اعتنائیوں سے میری
ذات کو ریزہ ریزہ کر دین
بے شک کرب و الم کی بھٹی میں
جھونک دین
مگر! سن اے جان شاہین
میرے الفاظ کے تقدس کو پامال مت کرن
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






