بے وفا کو یاد کرکے اج بھی دل روتا ہے
Poet: Nasar marjan By: Nasar marjan, swat khwaza khelaبے وفا کو یاد کرکے آج بھی دل روتا ہے
اس ستمگر کو پتہ کیا درددل کیا ہوتا ہے
ایک ہسی کے پیچھے ہزارو غم چپاے پھرتے ہے
روکے بھلا کیسے آنکھوں سے انسوں لگ جی جب کرتے ہے
ناسمجھ دل کو نہ سمجھا وہ ہوا کا جوکہ ہے
بے وفا کو یاد کرکے آج بھی دل روتا ہے
دل لگا کر خشبو دیوانی میں بہت مغرور تھی
کیا ہے حقیقت یہ بھی نہ سوچا دل سے بہت مجبور تھی
اب سمجھ ایا سوچا پیار بس ایک دوکہ ہے
بے وفا کو یاد کرکے آج بھی دل روتا ہے
اس ستمگر کو پتہ کیا درددل کیا ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






