تاریکی میں روشنی ستارہ
Poet: ward bazmi By: ward bazmi, islamabadتاریکی میں روشنی ستارہ
احساسِ خوش آگہی ستارہ
آنکھوں میں ہےآسمانِ حیرت
باندھے ہے جو ٹکٹکی ستارہ
چھوٹے گا کمانِ کہکشاں سے
سوچے گا جو خود کشی ستارہ
چندا تو نہ بولے چاندنی سے
دیکھے ہے یہ خامشی ستارہ
افلاک پہ کچھ بدل بھی دیتا
سن لیتا جو ان کہی ستارہ
بس رات سے صبح تک جیے گا
صرف اتنی ہے زندگی ستارہ
ٹوٹا ہے اس آسماں سے شاید
اخلاص کا آخری ستارہ
کرتا ہے کشید وَرۡد ہی سے
دیتا ہے جو تازگی ستارہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






