تا قیامت ترا انتظار کریں گے
Poet: Shahzad Kashfi Shahzad By: SHAHZAD KASHFI, Karachiتا قیامت ترا انتظار کریں گے
جھوٹا وعدہ سہی اعتبار کریں گے
تیری چاہت میں دل بیقرار کریں گے
تیری بانہوں کو ہم اپنا ہار کریں گے
کر نہیں سکے گر ہم بیاں لفظوں سے تو
ہم نگاہوں سے سب آشکار کریں گے
گر محبت ہے جرم آپکی آنکھوں میں جو
پھر خطا ہم تو یہ بار بار کریں گے
اپنی تقدیر میں جو لکھا ہے گوارہ
خود کو اب نہ کبھی اشکبار کریں گے
جو خلوص و محبت کا پیکر ہو دوست
انکی خاطر تو ہم جاں نثار کریں گے
دوست ہو یا کہ دشمن ہو شہزاد ہم تو
سب کی خاطر دعا بے شمار کریں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






