تب یاد بہت تم آتے ہو
Poet: Zeebiii By: Zubair Arshad, lahoreجب دردہی ہوبس سہنےکو
الفاظ نہ ہوں کچھ کہنےکو
آنسوبھی نہ ہوں بہنےکو
تب یاد بہت تم آتے ہو
خوابوں میں بھی تڑپاتےہو
جب پانی کا کچھ شور نہ ہو
چلتا خود پہ زور نہ ہو
غم ہو پر کویٔ اورنہ ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
خوابوں میں بھی تڑپاتےہو
جب سڑکوں پہ ويرانی ہو
انسانوں ميں حيوانی ہو
اپنوں سے حيرانی ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
خوابوں میں بھی تڑپاتےہو
جب دشمن کی فراوانی ہو
زمانے ميں بدنامی ہو
آنکھوں سے ٹُکتاپانی ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
خوابوں میں بھی تڑپاتےہو
جب یادمیں کچھ بھی ياد نہ ہو
دل ميں کچھ آباد نہ ہو
کسی سے فرياد نہ ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
کيوں ہمکومار جاتے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






