تجھی سا ایک ستارا سجا کے دیکھوں گا
Poet: M.Z By: M.Z, karachiتجھے صنم کبھی ایسی ادا سے دیکھوں گا
تڑپ اُٹھے گا ترا دل جلا کے دیکھوں گا
اگر دیا مرا قسمت نے ساتھ تو اِک دن
کسی حسین کے دل میں سما کے دیکھوں گا
نظر پہ قید تو اپنے لگا نہیں سکتا
زمانہ جو کہے میری بلا سے دیکھوں گا
اگرچہ کچھ نہیں مانگا ابھی تلک لیکن
کبھی نصیب تجھے آزما کے دیکھوں گا
حسین چہرہ گلابی نقاب کے پیچھے
چھپے گا کب تلک آخر حیا سے دیکھوں گا
سدا چمکتا ستاروں کے درمیاں جاناں
تجھی سا ایک ستارا سجا کے دیکھوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






