تجھے اپنے دل میں میرے لیے پیار نظر آئے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکاش ! تجھے اک خواب نظر آئے
خواب میں میرا حال نظر آئے
میرے چہرے پے اشکوں
کی برستی برسات نظر آئے
میرے تکیے پے بے رنگ
آنسؤں کے داغ نظر آئے
جو مجھے اندر ہی اندر
ختم کر رہا ہے
تجھے وہ سیلاب نظر آئے
اندھرے کمرے میں جلتا
تیرے آنے کی امید کا
اک چراغ نظر آئے
وہ قلم جو تیرے پیار کی
سیاہی سے لکھتا تھا
محبت نامہ وہ تجھے پیاسا
اور خشک نظر آئے
تو جہاں دیکھے ہرسو
تجھے تیرا عکس نظر آئے
اس کمرے کی خاموشی
میں بھی تجھے
تیری تلخی نظر آئے
اور تو چیخ پڑے
وہ آخری منظر دیکھ کر کہ
تو جب ہاتھ لگائے
تو تجھے میری لاش نظر آئے
تو اٹھے اور واپس آ جائے
میری طرف کہ تجھے
اپنے دل میں میرے لیے پیار نظر آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






