تجھے دل سے بھلانا چاہئیے تھا
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratتجھے دل سے بھلانا چاہئیے تھا
ہمیں بھی مسکرانا چاہئیے تھا
ہمیں پیچھے ہی رکھا ہے کسی نے
ہمیں اگلا زمانہ چاہئیے تھا
ستم یہ ہے مرے دل کے مکیں کو
کوئی بہتر ٹھکانا چاہئیے تھا
ہمیں اچھا لگا اُس کو منانا
اسے پھر روٹھ جانا چاہئیے تھا
کہیں پر کھو گیا چہرے کا نقشہ
مجھے اب لوٹ جانا چاہئیے تھا
زمانے بھر سے فرصت ہو گئی ہے
اُسے اب یاد آنا چاہئیے تھا
کہاں ہم زینؔ اس کے کام کے تھے
اسے یہ جان جانا چاہئیے تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






