تجھے دیکھنے کے بعد
Poet: Hina Temori (India) By: Mohammad Ashraf Siddiqui, karachiہم آکے تیرے شہر سے واپس نہ جائیں گے
یہ فیصلہ کیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
سجدہ کروں کہ نقشے قدم چومتی رہوں
گھر کعبہ بن گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
کہتے تھے لوگ تجھ کو مسیحا مگر یہاں
اک شخص مر گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
سجدہ تجھے کروں گی تو کافر کہیں گے لوگ
یہ کون سوچتا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
کھوئی ہوئی سی رہتی ہے اب ہر وقت حناء
یہ حال ہو گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
میں تجھے بھول کر جاؤں تو کہاں تک جاؤں
تجھ سے وابستہ تو اک عمر کی رسوائی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







